امریکہ کی وفاقی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس صدارتی حکم نامے کو آئین سے متصادم قرار دے دیا ہے، جس میں امریکہ میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کی پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یو ایس نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے 2 کے مقابلے میں 1 جج کی اکثریتی رائے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ حکم نامہ آئین کی 14ویں ترمیم سے براہِ راست متصادم ہے، جو واضح طور پر امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو، چاہے اس کے والدین کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو، شہریت کا حق دیتا ہے۔
تاریخی فیصلہ: صدارت کی حدود پر عدالتی لکیر
عدالتی فیصلے میں کہا گیا:
"ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ صدارتی حکم 14ویں ترمیم کی صریح زبان سے ٹکراتا ہے، جو امریکہ میں پیدا ہونے والے اور دائرہ اختیار میں موجود ہر فرد کو شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔”
اکثریتی رائے کے برخلاف جج پیٹرک بوماتائے، جو ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں، نے اختلافی نوٹ لکھا کہ مقدمہ دائر کرنے والے ریاستوں کے پاس قانونی حیثیت (standing) موجود نہیں تھی۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وفاقی اپیلز کورٹ نے اس حکم کا آئینی جائزہ لیا ہے، حالانکہ اس پر ابتدائی حکمِ امتناعی پہلے ہی جاری ہو چکا تھا۔
14ویں ترمیم: شہریت کا ناقابل تنسیخ حق
1868 میں خانہ جنگی کے بعد منظور کی گئی 14ویں آئینی ترمیم امریکہ کے شہری حقوق کا سنگِ میل ہے، جس کے تحت:
"جو کوئی بھی امریکہ میں پیدا ہوا اور امریکی دائرہ اختیار میں آتا ہے، وہ امریکی شہری ہوگا۔”
یہ ترمیم اس وقت منظور ہوئی جب سیاہ فام غلاموں کو شہریت دینے کی ضرورت پیش آئی، مگر ٹرمپ انتظامیہ کی رائے تھی کہ غیر قانونی یا عارضی ویزا رکھنے والے والدین کے بچوں کو یہ حق نہیں ملنا چاہیے۔
ریاستوں اور تنظیموں کی مزاحمت
واشنگٹن، اوریگن، ایریزونا اور الی نوائے سمیت کئی ریاستوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ کے صدارتی حکم کو عدالت میں چیلنج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک صدر اپنی صوابدید پر امریکی شہریت کی آئینی تعریف تبدیل نہیں کر سکتا۔ واشنگٹن کے اٹارنی جنرل نِک براؤن نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا:
"ایک فرد، چاہے وہ صدر ہی کیوں نہ ہو، قلم کی ایک جنبش سے امریکی شناخت کی تعریف نہیں بدل سکتا۔ یہ بچوں کے بنیادی حقوق، تحفظ اور مستقبل کا معاملہ ہے۔”
سیاسی اور قانونی اثرات
یہ فیصلہ نہ صرف امیگریشن پالیسیوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ صدارت کے اختیارات کی آئینی حدود کیا ہیں۔ عدالت نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ انتظامیہ صرف ایگزیکٹو آرڈر سے شہریت جیسے بنیادی حق کو ختم کر سکتی ہے۔ البتہ قانونی پیچیدگیاں باقی ہیں، کیوں کہ کچھ فیصلے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، اور صدر کے خلاف جاری قومی سطح کے حکم امتناعی کی حدود پر بھی عدالتی آراء منقسم ہیں۔







Discussion about this post