بابوسر ٹاپ کے مقام پر آنے والے سیلابی ریلے نے ایک اور دل دہلا دینے والی داستان کو جنم دیا۔ ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی، جو حادثے کے بعد لاپتا ہو گیا تھا، دو دن کی تلاش کے بعد مردہ حالت میں ملا۔ تفصیلات کے مطابق یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب لودھراں سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اسکردو کی سیاحت سے واپسی پر تھا۔ راستے میں بابوسر ٹاپ کے مقام پر اچانک آنے والے طوفانی سیلابی ریلے نے ان کی گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دلخراش حادثے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کے دیور فہد اسلام موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جب کہ ڈاکٹر مشعال کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہو گیا۔ یہ خبر سوشل میڈیا اور قومی ذرائع ابلاغ پر غم و افسوس کے ساتھ پھیل گئی۔ دو دن کے طویل اور تکلیف دہ انتظار کے بعد مقامی افراد نے ڈاسر نالے میں بچے کی لاش دیکھ کر حکام کو اطلاع دی۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاش کو نکالا اور چلاس اسپتال منتقل کیا۔ یہ سانحہ نہ صرف ایک خاندان کی خوشیوں کو بہا لے گیا، بلکہ ملک بھر کے لوگوں کو بھی قدرتی آفات کے آگے انسان کی بے بسی کا احساس دلایا۔ سیاحتی مقامات پر ایسے واقعات کا رونما ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ریسکیو سسٹمز، وارننگ سسٹمز اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسی قیمتی جانیں محفوظ رہ سکیں۔







Discussion about this post