سینیٹ اجلاس میں "سوشل میڈیا (حد عمر برائے صارفین) بل 2025” پیش کر دیا گیا، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر مسرور احسن نے بل پیش کیا۔ بل کا مقصد کم عمر صارفین کو آن لائن استحصال، سائبر بلیئنگ، اور نقصان دہ مواد سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اہم نکات:
-
16 سال سے کم عمر افراد سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔
-
سوشل میڈیا کمپنیوں پر نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس روکنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔
-
خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ لگایا جا سکے گا۔
-
نابالغ کو اکاؤنٹ بنانے میں سہولت دینے والے کو 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
پی ٹی اے کا کردار:
-
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نابالغوں کے موجودہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرے گی۔
-
پی ٹی اے کو قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور وضاحتیں جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ڈیجیٹل شعور بیداری کی مہم:
بل میں کہا گیا ہے کہ حکومت والدین اور بچوں میں ڈیجیٹل شعور بیدار کرنے کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کو محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔
بین الاقوامی مطابقت:
یہ بل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی پالیسیوں سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے، جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت قوانین لاگو ہیں۔







Discussion about this post