وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اب ہر دو ماہ بعد تمام وزارتوں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو شاباش دی جائے گی، جبکہ خامیوں پر تادیبی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کارکردگی کی بنیاد پر ہی فیصلے ہوں گے، کسی کو جھوٹا تاثر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے پر وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ اور تمام صوبائی حکومتوں کو سراہا اور کہا کہ مجالس اور جلوس پرامن طریقے سے منعقد ہوئے، جو قومی اتحاد اور ہم آہنگی کا مظہر ہے۔ وزیراعظم نے حالیہ بارشوں سے ہونے والے جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا، خاص طور پر سوات کے واقعے کو دلخراش قرار دیا اور کہا کہ مستقبل میں بہتر انتظامات کے لیے تیاری ضروری ہے۔

انہوں نے این ڈی ایم اے کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو سالانہ ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 10 کھرب روپے تک پہنچانے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان پر اٹھنے والے سوالات کا انہوں نے کارکردگی سے جواب دیا ہے۔







Discussion about this post