برطانیہ نے ایک تاریخی اور خوش آئند فیصلے کے تحت پاکستانی ایئرلائنز پر عائد طویل پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب پاکستانی فضائی کمپنیاں برطانیہ کے لیے باقاعدہ پروازوں کی اجازت حاصل کرنے کی درخواست دے سکتی ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفری سہولتیں ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو ایئر سیفٹی لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے، جو کہ ایک اہم پیش رفت اور پاکستان کے فضائی تحفظ کے نظام میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔ یہ فیصلہ برطانوی ایئر سیفٹی کمیٹی کی جانب سے کئی سالوں پر محیط مشاورت اور تکنیکی جائزوں کے بعد سامنے آیا، جس میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا گیا۔ کمیٹی نے تسلیم کیا کہ 2021 کے بعد سے پاکستان نے مطلوبہ عالمی حفاظتی معیارات پر پورا اُترنے کے لیے مؤثر اصلاحات نافذ کیں۔ برطانوی ہائی کمشنر نے اس موقع پر کہا:
"میں برطانیہ اور پاکستان کے ماہرینِ ہوا بازی کی مشترکہ کوششوں پر دلی شکر گزار ہوں۔ یہ فیصلہ ہمارے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پروازوں کی مکمل بحالی میں کچھ وقت ضرور لگے گا، مگر مجھے اُمید ہے کہ بہت جلد میں بھی کسی پاکستانی ایئرلائن کے ذریعے اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے سفر کر سکوں گا۔”

یہ فیصلہ نہ صرف لاکھوں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں اور پاکستان میں مقیم ہزاروں برطانوی باشندوں کے لیے خوشخبری ہے، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان خاندانی روابط، تجارتی تعلقات اور باہمی اشتراک کو مزید تقویت دے گا۔ یاد رہے کہ برطانیہ، پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 4.7 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔اگرچہ ہر ایئرلائن کو انفرادی طور پر برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (UK CAA) سے پرواز کی اجازت لینا ہوگی، لیکن یہ فیصلہ پاکستانی ہوا بازی کے شعبے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا دروازہ جو برسوں بعد کھلا ہے، اور جس سے پاکستان کی فضائی صنعت نئے افق کی جانب پرواز بھرنے کو تیار ہے۔







Discussion about this post