ہیوسٹن کی انٹرنیشنل آرٹس سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ایک باوقار اور یادگار ادبی شام کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ، ادیبہ اور سینئر صحافی ناصرہ زبیری مہمانِ خصوصی کے طور پر جلوہ افروز ہوئیں۔ یہ شام ان کے تازہ ترین شعری مجموعے ” موسمی خواہشیں ” کی تقریب رونمائی کے طور پر منائی گئی ۔ جو نہ صرف ان کی فکری گہرائی کا مظہر ہے بلکہ نسوانی جذبات اور عصری شعور کا ایک خوبصورت امتزاج بھی پیش کرتا ہے

ناصرہ زبیری کی نظموں میں عورت کا درد، سماج کی گونج، اور زندگی کے بے رنگ لمحوں کی تصویریں ایسی ہنر مندی سے ابھرتی ہیں کہ سننے والے دیر تک خاموش رہ کر صرف محسوس کرتے ہیں۔ تقریب میں ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نامور شاعر محترم ڈاکٹر افضال فردوس نے کتاب “ بے موسمی خواہشیں “ پر اظہارِ خیال کیا. سامعین میں نمایاں شخصیات میں فہیم اخوند،باسط جلیلی ، غضنفر ہاشمی اور زرتاشہ شاہ شامل تھیں، جنہوں نے ناصرہ زبیری کی علمی و ادبی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کے خیالات نے اس تقریب کو ایک فکری نشست میں بدل دیا جہاں ادب، محبت، زبان اور ثقافت کے رنگ بکھر گئے۔

شاعری ، گفتگو ، حاضرین کی خصوصی دلچسپی اور نامور شاعرمجید اختر کی موجودگی نے اس نشست کو یاد گار بنا دیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ ناصرہ زبیری کی شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ روح کی آواز ہے۔ ان کے خیال میں "بے موسمی خواہشیں” وقت کے اس دور میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس موقع پر ناصرہ زبیری کے شریکِ حیات، سینئر صحافی شہاب زبیری نے اپنی زندگی کی ہمسفر کے ساتھ گزارے گئے صحافتی و ادبی لمحات کو نہایت دلچسپ اور محبت بھرے انداز میں بیان کیا، جس نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کے بیان کردہ واقعات نہ صرف دلچسپ تھے بلکہ اس جوڑی کے درمیان محبت، احترام اور فکری ہم آہنگی کی زندہ مثال بھی پیش کرتے تھے۔

ناصرہ زبیری نے اس حسین شام کے انعقاد پر منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اپنی کتاب سے منتخب اشعار سنا کر محفل کو گویا ایک تخلیقی وجدانی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ ان کی شاعری میں درد، خواب، تجربات اور خواہشوں کی ایسی تصویر کشی موجود تھی جو ہر دل میں اترتی چلی گئی۔ ناصر زبیری کے اشعار میں ایک ایسی نرمی، درد اور چمک تھی جو ہر دل کو اپنا اسیر کر لیتی ہے۔ یہ شام نہ صرف ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ بنی بلکہ ہیوسٹن کے ادبی منظرنامے میں ایک خوبصورت باب کا اضافہ بھی ثابت ہوئی۔

تقریب کے آخر میں شرکاء نے کہا کہ یہ صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ ایک ادبی تحریک کا آغاز محسوس ہوا۔ ایسی شامیں وہ ثقافتی ورثہ ہیں جو نسلوں کے دلوں میں روشنی بکھیرتی ہیں۔
تصاویر بشکریہ امریکن اردو ڈاٹ ٹی وی







Discussion about this post