معروف اداکارہ حمیرا اصغر علی کی پراسرار موت کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے، اور اب یہ معاملہ کراچی کی ضلعی عدالت تک جا پہنچا ہے۔ 42 سالہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی، جب کرایہ دار کی عدم ادائیگی پر عدالتی حکم کے تحت فلیٹ خالی کروایا جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، لاش انتہائی خراب حالت میں تھی اور ابتدائی اندازے کے مطابق اداکارہ کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی، یعنی تقریباً چھ ماہ قبل۔
قتل کا الزام، شہری عدالت سے رجوع پذیر
واقعے پر نیا موڑ اُس وقت آیا، جب شہری شاہزیب سہیل نے سیشن جج جنوبی کراچی کی عدالت میں درخواست دائر کی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ طبعی موت نہیں بلکہ قتل ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ:
-
اپارٹمنٹ سے ملنے والے شواہد اور ویڈیوز فطری موت کے برعکس صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔
-
اداکارہ کا اپنے خاندان سے طویل عرصے تک رابطہ نہ ہونا اور لاش کی شناخت و وصولی میں دلچسپی نہ لینا، کئی شکوک کو جنم دیتا ہے۔
-
خاندان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے۔
درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا گیا ہے، اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی جامع تحقیقات کروائی جائیں اور قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
پولیس کی ابتدائی رائے
پولیس نے ابتداء میں قتل کے امکان کو مسترد کر دیا تھا، کیونکہ:
-
اپارٹمنٹ اندر سے بند تھا
-
زبردستی داخلے کے شواہد نہیں ملے
تاہم، کچھ اہم شواہد پولیس کو مزید تفتیش پر مجبور کر رہے ہیں:
-
فلیٹ میں موجود خوراک کی اشیاء ستمبر 2024 میں ایکسپائر ہو چکی تھیں
-
بجلی منقطع تھی
-
اداکارہ کا موبائل فون اکتوبر سے غیر فعال ہے
پولیس اب ان کے فون ریکارڈز، ڈیجیٹل شواہد اور سوشل میڈیا سرگرمی کا جائزہ لے رہی ہے۔
اداکارہ کا فنی سفر
حمیرا اصغر نے تماشا گھر اور جلیبی جیسی معروف فلموں اور ڈراموں میں کام کیا۔ وہ مصوری اور مجسمہ سازی میں بھی ماہر تھیں۔ انسٹاگرام پر ان کے 7 لاکھ 15 ہزار سے زائد فالوورز تھے، اور ان کی آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو سامنے آئی تھی۔







Discussion about this post