بلوچستان کے ضلع ژوب اور لورالائی کی سرحد پر واقع سورڈکئی کے علاقے میں پیش آنے والا ایک خونی سانحہ، پاکستان کے امن، بھائی چارے اور انسانیت کے ماتھے پر ایک اور زخم بن کر اُبھر آیا۔جمعرات کی شب، دہشت کے سائے اُس وقت گہرے ہو گئے جب فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر کوچز کو این-70 ہائی وے پر روک کر، شناخت کے بعد 9 بےگناہ سافروں کو اغوا کر کے سفاکی سے شہید کر دیا۔ عینی شاہدین اور ایک زندہ بچ جانے والے مسافر کے مطابق، مسلح افراد بسوں میں داخل ہوئے، مسافروں کے قومی شناختی کارڈ چیک کیے اور ان میں سے 10 افراد کو زبردستی نیچے اتار لیا۔ کچھ ہی دیر بعد، گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اگلی صبح، 9 لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں راخنی منتقل کیا گیا تاکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے جسد خاکی پنجاب بھجوائے جا سکیں۔
دہشت گردی کی ذمہ داری قبول
اس خونی حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کر لی۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ موسیٰ خیل-مکھتر شاہراہ بند کرنے کے بعد کیا گیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا کہ فتنۃ الہندوستان اور اس کے پروردہ عناصر پاکستان میں خونریزی کی آگ بھڑکانے پر تلے ہوئے ہیں۔
ریاستی ردعمل ، پرعزم، بے رحم
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں، سرچ آپریشن شروع ہوا اور شاہراہ پر ٹریفک معطل کر دی گئی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق، یہ پاکستان کے امن اور یکجہتی پر حملہ ہے، اور دشمن کی یہ چال ناکام بنائی جائے گی۔
قیادت کا ردعمل ، مذمت اور عزم
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس بہیمانہ قتل کو فتنۃ الہندوستان کی پاکستان میں انتشار پھیلانے کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ
"یہ بربریت ہمیں متحد ہونے کی یاد دہانی ہے، دہشت گردوں کا خاتمہ ہی واحد راستہ ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح اعلان کیا کہ
"نہتے شہریوں کا قتل فتنۃ الہندوستان کی کھلی دہشت گردی ہے، دہشت گردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے، خون کا بدلہ لیں گے۔”
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا:
"یہ سفاکیت کی انتہا ہے، بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔ قوم متحد ہے، اور دشمن کی ہر سازش خاک میں ملائی جائے گی۔”
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"یہ ریاستی جنگ ہے، جس میں دوٹوک فیصلہ ہوگا۔ پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بلوچستان دشمنوں کے لیے قبرستان بنے گا۔”







Discussion about this post