یورپ نے 2025 کے جون میں وہ منظر دیکھا، جو نہ صرف ریکارڈ بُک میں درج ہو گیا، بلکہ آنے والے وقتوں کی ایک تشویشناک جھلک بھی دکھا گیا۔ یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق، مغربی یورپ نے اس برس اپنی تاریخ کا سب سے گرم جون گزارا ۔ ایک ایسا مہینہ، جو نہ صرف درجہ حرارت کے گراف کو توڑ گیا، بلکہ انسانی برداشت کی حدوں کو بھی چیلنج کر گیا۔ دو مسلسل ہیٹ ویوز نے فرانس، اسپین، پرتگال اور اٹلی جیسے ممالک کو جھلسا کر رکھ دیا۔ کئی علاقوں میں سطح زمین کا درجہ حرارت 40 سے 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچا، جبکہ ’فیلز لائک‘ یعنی انسانی جسم پر محسوس ہونے والا درجہ حرارت بعض مقامات پر 48 ڈگری سیلسیس سے بھی تجاوز کر گیا جو کہ اوسط سے 7 ڈگری زیادہ تھا۔

کوپرنیکس کے مطابق، جون 2025 عالمی سطح پر اب تک کا تیسرا گرم ترین جون رہا۔ اس سے پہلے 2024 اور 2023 کے جُون بھی اسی خطرناک حدت کے حامل تھے، اور اس تسلسل نے ثابت کر دیا کہ زمین اب تیز رفتاری سے گرمی کی قید میں آ رہی ہے — اور یہ سب کچھ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے سبب ہو رہا ہے۔ موسمیاتی ماہر سمانتھا برجز کا کہنا ہے:
"گرم ہوتی دنیا میں ہیٹ ویوز زیادہ بار، زیادہ شدت کے ساتھ، اور زیادہ دیر تک رہیں گی۔ ان کا دائرہ اثر وسیع ہوتا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہی فضائی آلودگی، جنگلاتی آگ، اور انسانی صحت کے مسائل بھی بڑھتے جائیں گے۔”

یورپ میں رواں برس کے دونوں ہیٹ ویوز، 17 سے 22 جون اور 30 جون سے 2 جولائی تک جاری رہیں، جن کے دوران ایک خطرناک ماحولیاتی مظہر ہیٹ ڈوم نے گرم ہوا کو علاقوں میں قید رکھا، جس سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر بحیرۂ روم کے مغربی حصے میں سمندر کی سطح پر درجہ حرارت بھی ریکارڈ حد تک بڑھ گیا جس نے ہیٹ ویوز کو اور بھی خطرناک بنا دیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر ماحولیاتی اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ خطرات مزید شدت اختیار کریں گے۔







Discussion about this post