پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ اور ناقابلِ تسخیر ہے، اور کوئی بھی ملک اسے نشانہ بنانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت ملک کی دفاعی طاقت اور علاقائی توازن کی ضامن ہے، اور یہ ہر قسم کی جارحیت کے خلاف قومی سلامتی کی پختہ علامت ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت کی ریاستی پالیسی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی سیاسی قیادت متعدد بار پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا ماسٹر مائنڈ ہے، جبکہ امریکا، کینیڈا سمیت متعدد ممالک بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی جانب سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں منظم سازش کا حصہ ہیں، اور یہ پاکستان کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسلام کے نام پر کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کو فتنہ خوارج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جہاد یا قتال کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے، کسی فرد، تنظیم یا گروہ کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "فتنہ الہندوستان” کی اصطلاح ان عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہیں، اور خاص طور پر بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے بقول، "خارجی” کی اصطلاح اب پاکستان کی سیکیورٹی اور میڈیا بیانیے کا حصہ بن چکی ہے اور ایسے **مسلح گروہوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ریاست یا فوج کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔”







Discussion about this post