تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

امریکا : اب مسافروں کو جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی

by ویب ڈیسک
جولائی 9, 2025
امریکا : اب مسافروں کو جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی
Share on FacebookShare on Twitter

امریکہ میں ایئرپورٹس پر سکیورٹی چیکنگ کے دوران مسافروں کو اب جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، ایک ایسا عمل جو گزشتہ دو دہائیوں سے لازمی قرار دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے "اے پی” کے مطابق، ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے اعلان کیا ہے کہ 20 سال سے نافذ اس عمل کو فوری طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا پائلٹ پروگرام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کے ذریعے بغیر جوتے اتارے بھی مکمل سکیورٹی چیک ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ:

"اب مسافروں کو سکیورٹی چیک پوائنٹس پر جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اگر کسی خاص صورتحال میں مزید جانچ ضروری ہوئی تو مخصوص افراد کو جوتے اتارنے کا کہا جا سکتا ہے۔”

جوتے اتارنے کی شرط کیوں لگائی گئی تھی؟

2001 میں رچرڈ ریڈ نامی ایک شخص نے پیرس سے میامی جانے والی پرواز میں جوتوں میں بم چھپا کر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جو ناکام بنا دی گئی۔ اس واقعے کے بعد 2006 میں 12 سے 75 سال کے درمیان عمر کے تمام مسافروں کے لیے جوتے اتارنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد اُس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی (TSA) کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کو یقینی بنانا تھا۔

سکیورٹی میں بہتری کے لیے TSA نے چہرے کی شناخت، اصل آئی ڈی چیکنگ اور دیگر اقدامات متعارف کرائے، تاہم یہ عمل مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا رہا۔

رواں سال اپریل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹرانسپورٹیشن سیکریٹری سین ڈفی نے سوشل میڈیا پر عوام سے پوچھا کہ سفر کو مزید آسان بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اگلے ہی دن انہوں نے پوسٹ کی کہ TSA سے متعلق شکایات سب سے زیادہ موصول ہو رہی ہیں، جس پر وہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری سے بات کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں TSA کے سربراہ ڈیوڈ پیکوسک کو عہدے سے برطرف کر دیا، حالانکہ ان کی تقرری بھی ٹرمپ نے ہی اپنے پہلے دورِ صدارت میں کی تھی۔ برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی، اور اس وقت TSA کی ویب سائٹ کے مطابق ادارہ قائم مقام قیادت کے تحت کام کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو خطرناک اشیاء کو بغیر جوتے اتارے بھی اسکین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر یہ پائلٹ پروگرام کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید سکیورٹی اقدامات میں انسانی مداخلت کم ہو سکتی ہے، اور مسافروں کے لیے سفری تجربہ مزید آسان ہو جائے گا۔

Previous Post

یوٹیوب کی مونیٹائزیشن پالیسی میں بڑی تبدیلی

Next Post

98 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے پاکستانی فلم سازوں سے درخواستیں طلب

Next Post
98 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے پاکستانی فلم سازوں سے درخواستیں طلب

98 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے پاکستانی فلم سازوں سے درخواستیں طلب

Discussion about this post

تار نامہ

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

برٹنی اسپیئرز نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر گرفتار

drone

پنجاب میں ’اینٹی ڈرون یونٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ

ricky martin

معروف گلوکار رکی مارٹن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں پرفارم کریں گے

iran 4

امریکی ٹی وی کی ایران کی بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق

اگست میں بنگلہ دیش کی 2 کرکٹ  ٹیمیں آئیں گی

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز، بنگلہ دیش اسکواڈ کا اعلان

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist