وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابی اور سیز فائر میں وزیراعظم کا بڑا کردار ہے۔ وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا کہ تمام علمائے کرام کی آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کا معاشرے میں اہم کردار ہے، قیام امن کے لیے علما نے ہمیشہ کردار ادا کیا۔ وزیر داخلہ نے علمائے کرام سے مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتہائی ضروری بتایا، اور سب کو نصیحت کی کہ اپنا مسلک چھوڑو مت اور کسی کے مسلک کو چھیڑو مت، امام حسینؓ کسی ایک مسلک کے نہیں سب کے ہیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف میزائل فائر کیے تو ایک میزائل میں کچھ نمبروں کا فرق آگیا، لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے اس مدد آئی کہ وہی میزائل ان کے سب سے بڑے آئل ڈپو پر گرا اور آگ لگ گئی، جس کی ویڈیو بھارت میں سب سے بڑی آگ والی ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ بھارت نے ایک ایئربیس پر 9 یا 11 میزائل فائر کیے، اور یہ بیس ہمارے جہاز بھی تھے، مگر کوئی زیادہ نقصان نہ ہوا، یہ مثالیں غیبی مدد کا ثبوت ہیں، جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف امن کے لیے علمائے کرام سے ملاقات کریں گے، خاص طور پر جن مقامات پر دہشت گردی زیادہ ہے وہاں ہم سب جائیں گے، کیونکہ دہشت گردی صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب مقامی لوگ دہشت گردوں کی مدد کرنا بند کردیں، جس دن مدد ختم ہوگئی دہشت گرد اس گلی، محلے اور گاؤں میں نہیں رہ سکتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ 14 اگست کو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ ظہر کی نماز فیصل مسجد میں ادا کریں تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم سب اکٹھے ہیں۔







Discussion about this post