تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

افغان خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیا جائے

by ویب ڈیسک
جولائی 2, 2025
فلسطین تنازعہ، ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ
Share on FacebookShare on Twitter

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایک مرتبہ پھر افغان خواتین کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کرتے ہوئے عالمی کھیلوں کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور افغان خواتین ایتھلیٹس کے لیے باعزت اور محفوظ کھیلوں کے مواقع فراہم کریں۔ انہوں نے یہ بات ایک خصوصی انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کھلاڑیوں کو میدان میں دیکھنا طالبان کے جبر کے خلاف ایک خاموش مگر طاقتور مزاحمت ہے۔ انہوں نے کہا:

"جب ہم افغان خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں، تو یہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف ایک واضح پیغام ہوتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں خواتین کی کھیلوں میں کامیابیوں کا جشن منایا جا رہا تھا، اسی وقت افغان خواتین فٹبال ٹیم اپنی ہی سرزمین پر کھیلنے سے محروم تھی۔ ان کے بقول،

"ہر بار جب کوئی افغان لڑکی پریکٹس کرتی ہے یا کھیلنے کا حق مانگتی ہے، تو وہ دراصل طالبان کے ظلم کے خلاف عملی مزاحمت کرتی ہے — اور یہ بہادری ہے۔”

ملالہ نے فیفا، آئی سی سی اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ صرف بیانات کی حد تک نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان خواتین کو پلیٹ فارم مہیا کریں جنہیں اپنے وطن سے بےدخل ہونا پڑا۔ ان کا کہنا تھا:

"کھیل انہی کھلاڑیوں سے بنتا ہے، اگر وہ نہ ہوں تو کھیل کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ ہمیں ان کے لیے راستے اور مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔”

اقوامِ متحدہ کے مطابق طالبان کے اگست 2021ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان دنیا کا سب سے زیادہ خواتین مخالف ملک بن چکا ہے۔ ملک میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی، یونیورسٹیوں میں داخلے پر قدغن، محرم کے بغیر سفر پر پابندی، اور خواتین کے لیے پارک، جم، اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی بھی روک دی گئی ہے۔ طالبان کے اقتدار کے بعد افغان خواتین فٹبال ٹیم کو آسٹریلیا میں سیاسی پناہ لینا پڑی۔ 2023ء میں ملالہ یوسفزئی نے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے دوران اس ٹیم سے ملاقات کی اور فیفا سے مطالبہ کیا کہ ان کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر عالمی سطح پر شناخت دی جائے۔ فیفا کی جانب سے حالیہ دنوں میں افغان خواتین فٹبال کے لیے ایکشن اسٹریٹجی کا اعلان کیا گیا، تاہم تاحال افغان خواتین قومی ٹیم کو باضابطہ حیثیت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے رواں سال اپریل میں افغان خواتین کرکٹرز کے لیے امدادی فنڈ اور معاونت کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ

"جب تک افغانستان میں خواتین کو تعلیم اور کھیل کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک مردوں کی قومی ٹیم پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی جائے۔”

Previous Post

ایشیا کپ : پاک بھارت ٹاکرا 7 ستمبر کو دبئی میں ہوگا

Next Post

ایران کی کامیابی اور سیز فائر میں وزیراعظم کا بڑا کردار ہے

Next Post
ایران کی کامیابی اور سیز فائر میں وزیراعظم کا بڑا کردار ہے

ایران کی کامیابی اور سیز فائر میں وزیراعظم کا بڑا کردار ہے

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist