ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ارب پتی مالک ایلون مسک نے امریکی سینیٹ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت کا نیا مالیاتی بل منظور ہوا تو وہ نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا کہ جن اراکینِ کانگریس نے اپنے وعدوں کے خلاف قومی قرضے میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے، انہیں شرم آنی چاہیے۔ مسک نے کہا کہ اگر یہ میری زندگی کا آخری کام بھی ہوا، تب بھی میں انہیں اگلے انتخابات میں شکست دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوتا ہے تو اگلے ہی دن وہ ’امریکا پارٹی‘ قائم کریں گے کیونکہ ملک کو ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جیسی ایک جیسی سوچ رکھنے والی "یونی پارٹی” کا متبادل درکار ہے۔
If this insane spending bill passes, the America Party will be formed the next day.
Our country needs an alternative to the Democrat-Republican uniparty so that the people actually have a VOICE.
— Elon Musk (@elonmusk) June 30, 2025
ایلون مسک ماضی میں ریپبلکن امیدواروں، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کر چکے ہیں اور 2024 کے صدارتی انتخاب میں ان کی مہم کے لیے 275 ملین ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔ تاہم اب وہ اسی پالیسی بل کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں، جسے ٹرمپ اور ان کے حامی آگے بڑھا رہے ہیں۔ مسک کے مطابق، مجوزہ بل اگلے 10 سال میں امریکی بجٹ خسارے کو 3.3 ٹریلین ڈالر تک لے جائے گا، جو آنے والی نسلوں کو قرض کی زنجیروں میں جکڑ دے گا۔ سینیٹ میں زیر غور بل میں ٹیکس میں کٹوتیاں، سرکاری اخراجات میں کمی، اور کچھ اضافی آمدنی کے اقدامات شامل ہیں، لیکن مسک کا ماننا ہے کہ یہ بل مستقبل کی معیشت، جیسے برقی گاڑیاں اور جدید توانائی، کے بجائے ماضی کی صنعتوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ بل ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر پیچھے کی جانب دھکیل دے گا۔ ایلون مسک کے اس اعلان کو امریکی سیاست میں بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک غیر روایتی، بااثر اور ارب پتی شخصیت براہِ راست سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔







Discussion about this post