فیس بک کی رنگین دنیا میں شروع ہونے والی ایک خوابناک کہانی لیاری کی خاک آلود گلیوں میں بکھر گئی، جب تیونس سے آئی 19 سالہ سندا ایاری محبت کی تلاش میں کراچی پہنچی، لیکن چند ماہ بعد تنہائی، طلاق اور بے بسی اس کا مقدر بن گئی۔ نیا آباد لیاری کے رہائشی محمد عامر سے فیس بک پر دوستی ہوئی۔ سندا نے سمندر پار محبت پر یقین کیا، ویزا حاصل کیا، اور 28 نومبر 2024 کو کراچی پہنچ گئی۔ عامر اور اس کے گھر والوں نے اسے ایئرپورٹ سے خوش آمدید کہا اور اگلے ہی دن سادگی سے نکاح کر لیا۔ یہ نکاح 6 مارچ کو یونین کونسل بغدادی میں رجسٹر ہوا۔ محبت کے اس سفر کا اختتام غیر متوقع تھا۔ شادی کے صرف سات ماہ بعد، عامر نے سندا کو طلاق دے دی۔ اب وہ نہ شوہر کے ساتھ ہے، نہ اپنے وطن میں، بس لیاقت آباد ویمن تھانے میں ایک شیلٹر ہوم میں، واپسی کی امید لیے بیٹھی ہے۔ سندا کا کہنا ہے کہ اس کا ویزا 18 فروری کو ختم ہو چکا ہے، شوہر نے اس کے ساتھ مزید رہنے سے انکار کر دیا، اور اب اس کے پاس واپسی کے اخراجات بھی نہیں۔ اس نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ایگزٹ پرمٹ دیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک واپس جا سکے۔

دوسری جانب عامر کے گھر والوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے لڑکی کو پاکستان آنے سے روکا تھا، لیکن وہ ضد پر قائم رہی۔ شادی کے بعد سندا کے رویے میں عجیب و غریب تبدیلیاں آئیں۔ وہ گھر سے دوپٹے اور چپل کے بغیر باہر نکلتی، بے ربط باتیں کرتی، عامر سے الجھتی اور جسمانی تشدد بھی کرتی رہی۔ گھر کا سکون برباد ہو گیا، اور آخرکار علیحدگی ہی واحد راستہ رہ گئی۔ پولیس کے مطابق سندا نے کسی قسم کی زیادتی یا ظلم کی شکایت نہیں کی، تاہم عورت ہونے کے ناطے اُسے فوری پناہ دی گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے، اور ویزا حکام نے سندا کی دستاویزات طلب کرتے ہوئے اسے ایگزٹ پرمٹ کی آن لائن درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔







Discussion about this post