وزارت داخلہ نے محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت، اشتعال انگیزی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں نیشنل کرائم اینڈ سائبر انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے تحت ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق یہ ٹیم سوشل میڈیا پر مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے گی اور نفرت انگیز تقاریر، گمراہ کن معلومات اور فرقہ وارانہ مواد کی فوری نشاندہی کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ خصوصی ٹیم میں ٹیکنیکل ماہرین، ڈیجیٹل تجزیہ کار اور نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے تربیت یافتہ افسران شامل ہیں، جو سوشل میڈیا پر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے چوبیس گھنٹے متحرک رہیں گے۔

پرامن محرم، اولین ترجیح
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران پرامن ماحول کا قیام، بین المسالک ہم آہنگی اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کی مؤثر روک تھام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس حوالے سے حالیہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر میں محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے۔
پیمرا کو اہم سفارشات اور سروسز کی ممکنہ بندش کا لائحہ عمل
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پیمرا کو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی مؤثر روک تھام کے لیے واضح اور عملی سفارشات فراہم کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ یا موبائل فون سروس کی عارضی بندش کا فیصلہ متعلقہ صوبوں کی مشاورت سے، زمینی حقائق اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت دی کہ تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں اور محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے ہر پہلو پر غیر معمولی توجہ دی جائے۔







Discussion about this post