خیبرپختونخوا کے حسین وادی سوات اس وقت قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہے، جہاں موسلادھار بارشوں کے بعد دریائے سوات خوفناک انداز میں بپھر گیا، اور کم از کم سات مقامات پر تباہی کی داستانیں رقم ہوئیں۔ خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ ریسکیو حکام نے اطلاع دی ہے کہ اب تک 5 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 55 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ تاہم 20 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔
دلدوز مناظر اور دل دہلا دینے والے لمحات
ضلع سوات کے بائی پاس کے مقام پر سب سے ہولناک منظر دیکھنے میں آیا، جہاں ایک ہی خاندان کے 9 افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، دریا میں بہہ گئے۔ افسوسناک طور پر 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کی دلخراش ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں دکھایا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد مٹی کے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر مدد کے منتظر کھڑے ہیں، اور کچھ لمحوں بعد وہ تیز رو سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ جاتے ہیں۔ ان مناظر نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔
متعدد مقامات پر ریسکیو آپریشن جاری
-
امام ڈھیرئی میں 22 افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔
-
غالیگے کے مقام پر 7 افراد پانی میں پھنسے، جہاں سے ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے، باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔
-
مانیار میں 7 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے جن کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
-
پنجیگرام میں بھی ایک شخص سیلاب میں پھنس گیا ہے۔
-
برہ بامہ خیلہ، مٹہ میں 20 سے 30 افراد ایک خطرناک سیلابی کیفیت میں گھر گئے، جنہیں اللہ کے فضل سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ لاپتہ افراد کی جانیں بچائی جا سکیں۔ مقامی افراد نے بھی امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔







Discussion about this post