بالی ووڈ کے سپر اسٹار اور کرکٹ فرنچائز کے مالک شاہ رخ خان ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں مگر اس بار وجہ ان کی کوئی فلم نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان سے جڑا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔کیریبیئن پریمیئر لیگ (سی پی ایل) 2025 کے ڈرافٹ میں شاہ رخ خان کی ٹیم ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز (TKR) نے دو پاکستانی کرکٹرزمحمد عامر اور عثمان طارق کو اپنی ٹیم میں شامل کر کے ایک مثبت مگر متنازع قدم اٹھایا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ بھارت میں موجود بھارتی ہندو انتہا پسند حلقوں کو سخت ناگوار گزرا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق شاہ رخ خان کو اس اقدام پر ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور بعض شدت پسند گروہوں کی جانب سے مخالفت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ شاہ رخ خان کو اپنے معتدل اور روادار فیصلوں پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔ ماضی میں بھی وہ ایسی شدت پسندی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ فی الوقت شاہ رخ خان کی جانب سے اس تنازع پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، مگر ان کا یہ خاموش قدم سرحد پار امن اور کھیل کے فروغ کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سی پی ایل 2025 کے ڈرافٹ میں مجموعی طور پر 5 پاکستانی کھلاڑیوں کا انتخاب ہوا ہے، جن میں سے 2 کو شاہ رخ خان کی فرنچائز نے اپنی ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاک بھارت تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ شاہ رخ خان کے اس فیصلے نے نہ صرف کرکٹ میں سرحدوں سے بالاتر ہو کر ٹیلنٹ کی پذیرائی کی ایک مثال قائم کی ہے بلکہ کھیل کو نفرت کے بیانیے سے الگ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔







Discussion about this post