بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مردوں کے ٹی20 انٹرنیشنل میچز کے قوانین میں ایک نمایاں اور دانشمندانہ تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مختصر فارمیٹ میں کھیل کو مزید متوازن، منصفانہ اور پیشہ ورانہ بنانا ہے۔ خاص طور پر پاور پلے کے اصولات میں متعارف کی گئی یہ نئی ترمیم شفافیت اور فطری انصاف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
نئے ضابطے کے تحت، اگر کسی اننگز کے اوورز کم کر دیے جائیں تو اب پاور پلے کا دورانیہ "قریبی مکمل اوور” کے بجائے "قریبی گیند” (Nearest Ball) کے اصول پر طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل، قریبی اوور کی بنیاد پر پاور پلے کا تعین بعض اوقات ایسے تناسب پیدا کرتا تھا جو کھیل کے توازن کو متاثر کر سکتے تھے۔

یہ نیا فارمولہ کھیل کی روح سے ہم آہنگ ہے اگر اننگز صرف 8 اوورز کی ہو، تو پاور پلے 13 گیندوں (2.2 اوورز) تک محدود ہوگا، جبکہ 9 اوورز کی اننگز کی صورت میں پاور پلے 14 گیندوں (2.4 اوورز) پر مشتمل ہوگا۔ اس حساب سے پاور پلے کا تناسب تقریباً اصل 30 فیصد کے قریب رہتا ہے، جو کہ ایک متوازن اور شفاف فارمیٹ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ کوئی انوکھا یا پیچیدہ طریقہ نہیں بلکہ انگلینڈ کے معروف T20 بلاسٹ ٹورنامنٹ میں کئی برسوں سے کامیابی سے رائج ہے۔ امپائرز پاور پلے کے اختتام کا اشارہ اوور کی کسی بھی گیند کے بعد دے سکتے ہیں، مثلاً اگر اننگز 8 اوورز پر مشتمل ہو تو تیسرے اوور کی دوسری گیند کے بعد فیلڈنگ پابندیاں تبدیل ہو جائیں گی، اور اضافی تین فیلڈرز 30 یارڈ دائرے سے باہر جا سکیں گے۔

یہ تجویز آئی سی سی کی مردوں کی کرکٹ کمیٹی نے بھی مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے، اور اب یہ مستقبل میں پاور پلے کے تعین کے لیے ترجیحی اصول کے طور پر اپنائی جائے گی۔آئی سی سی نے واضح کیا کہ "یہ نیا نظام نہ تو کھلاڑیوں کے لیے پیچیدہ ہے، نہ امپائروں کے لیے چیلنجنگ، بلکہ کھیل کو مزید مہذب، سادہ اور منصفانہ بنانے کی جانب ایک واضح قدم ہے۔” یہ فیصلہ نہ صرف کرکٹ کے اصولی توازن کو برقرار رکھتا ہے بلکہ تماشائیوں کے لیے بھی ایک بہتر، متحرک اور قابلِ فہم تجربہ فراہم کرے گا۔ کرکٹ کے بدلتے منظرنامے میں آئی سی سی کی یہ حکمت عملی بلاشبہ ایک سنجیدہ، پیشہ ورانہ اور دوراندیش قدم قرار دی جا سکتی ہے۔







Discussion about this post