آسٹریلیا کے اوپننگ بلے باز عثمان خواجہ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے بعد آسٹریلوی اسپورٹس ریڈیو اسٹیشن SEN کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا۔ یہ انکار محض میڈیا روٹین کا حصہ نہیں بلکہ ایک پرعزم اور اصولی مؤقف کا مظہر تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چار ماہ قبل اسی ریڈیو اسٹیشن نے معروف کرکٹ تجزیہ کار پیٹر لیلور کو غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر برطرف کر دیا تھا۔ خواجہ، جو خود فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں، نے واضح پیغام دیا کہ وہ ایسے ادارے کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے جو حق گوئی پر قدغن لگائے۔

پس منظر:
اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری کے خلاف عثمان خواجہ نے کئی بار سوشل میڈیا پر مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے ایک ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے جوتوں اور گئیر پر "تمام انسان برابر ہیں” اور "امن کے لیے دعا کریں” جیسے غیر متعین اور غیر سیاسی پیغامات درج کرنے کی کوشش کی، لیکن ICC نے اسے "سیاسی پیغام” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اسی دوران جب پیٹر لیلور نے فلسطینیوں کے حق میں پوسٹس کیں، تو SEN کے سربراہ کریگ ہچیسن نے انہیں برطرف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی سرگرمیوں سے "یہودی آسٹریلوی شہریوں کو تکلیف پہنچی ہے”۔ جواب میں لیلور نے کہا:
"میرے دوست خوفزدہ ہیں، ان کی آواز میں درد ہے۔ مگر غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں۔”
عثمان خواجہ نے اس وقت بھی SEN کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا:
"غزہ کے مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا یہود مخالف نہیں۔ یہ اسرائیلی حکومت کے ظلم، انسانی حقوق، اور انصاف کی بات ہے۔”

حالیہ واقعہ:
ویسٹ انڈیز کے خلاف 47 رنز کی اہم اننگز کھیلنے کے بعد خواجہ کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ وہ جیسے ہی مائیکروفون پر SEN کا لوگو دیکھتے ہیں، ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتے ہیں اور خاموشی سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ جبکہ ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے روایتی طور پر دن کے بہترین کھلاڑی کو میڈیا سے گفتگو کے لیے بھیجا جاتا ہے، عثمان خواجہ نے اخلاقی بنیادوں پر انکار کر کے اپنے اصولوں کو میدان سے باہر بھی برقرار رکھا۔ عثمان خواجہ کا یہ قدم آسٹریلوی کرکٹ میں ایک مثالی طرزِ عمل کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جہاں کھیل اور انسانیت کے درمیان پل باندھنے کی کوشش کی گئی، نہ کہ فاصلے پیدا کیے گئے۔







Discussion about this post