ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان ابراہیم زلفقاری نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ براہِ راست جنگ میں شامل ہو چکا ہے اور اس نے ایران کی "مقدس سرزمین” کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ زلفقاری نے خبردار کیا کہ امریکہ کو طاقتور، ٹارگٹڈ اور فیصلہ کن کارروائیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول، ان حملوں کے نتائج "بھاری، افسوسناک اور غیر متوقع” ہوں گے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے انگریزی میں کہا:
"مسٹر ٹرمپ ! یہ جنگ آپ نے شروع کی ہے، لیکن اسے ختم ہم کریں گے!”
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ایران کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کو آپریشن روم میں فوجی حکام کے ساتھ صلاح و مشورہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہیں:
"ماضی میں بھی جب امریکہ نے ایران کے خلاف مجرمانہ کارروائیاں کیں، اسے سخت جواب ملا، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔”
ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج اب ایرانی جوابی کارروائیوں کا ممکنہ ہدف بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور ہم ہر حملے کا جواب اپنی شرائط پر دیں گے۔”
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ یہ صرف ردعمل نہیں بلکہ ایک نئی جنگی حکمتِ عملی کا آغاز ہے۔ دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے چھ مختلف ہوائی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے بیان کے مطابق، یہ حملے ایران کے مغربی، مشرقی اور مرکزی حصوں میں واقع ایئرپورٹس پر کیے گئے۔
IDF کا دعویٰ ہے کہ ان ڈرون حملوں میں ایران کے:
-
15 لڑاکا طیارے (F-15 اور F-5)
-
ایک ری فیولنگ جہاز
-
ایک AF-1 کوبرا ہیلی کاپٹر
کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حملوں میں رن ویز اور زیرِ زمین بنکرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حملے کس وقت کیے گئے اور ایران کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔







Discussion about this post