قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اہم اعلانات کیے ہیں جن میں ٹیکس اصلاحات، عوامی ریلیف اور معیشت کی بحالی کے لیے متعدد اقدامات شامل ہیں۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شدید احتجاج کیا، جبکہ رکن اسمبلی اقبال آفریدی کی حکومتی ارکان سے ہاتھا پائی کی کوشش پر سیکیورٹی اسٹاف کو مداخلت کرنا پڑی۔ وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں وضاحت کی کہ 15سال یا اس سے زائد عرصے سے ذاتی رہائش کے لیے استعمال ہونے والے گھروں پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ یہ اقدام مڈل کلاس اور محنت کش طبقے کے لیے ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ایف بی آر براہ راست کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکے گا اگر ٹیکس فراڈ 5 کروڑ روپے سے کم ہو۔ اس کے لیے ایک کمیٹی کی منظوری درکار ہوگی اور گرفتاری کے بعد 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیشی لازمی ہوگی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ:
-
زراعت پر ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن پر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے سالانہ6سے 12لاکھ آمدن پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی گئی ہے۔
-
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
-
سولر مصنوعات پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔
-
کپاس پر ٹیکس مکمل ختم کر دیا گیا ہے تاکہ زرعی شعبے کو فروغ ملے۔
-
نجی کاروبار کو سہولت دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
-
چوزوں پر فی چوزہ 10 روپے ٹیکس لگایا جا رہا ہے، جو کہ پولٹری سیکٹر کے لیے ایک نیا اقدام ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق، بجٹ میں کوشش کی گئی ہے کہ ترقیاتی منصوبے، معاشی استحکام اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے۔







Discussion about this post