ایک ایسی دنیا میں جہاں زندگی کا پہیہ کبھی رکتا نہیں، خاموشی ایک نایاب نعمت بن چکی ہے۔ پیغامات کی گھنٹیاں، آخری تاریخیں، توقعات، اور تقابلی سوچ یہی ہماری آج کی دنیا کا مسلسل شور ہے اور اسی شور میں ہمارے دور کا ایک سنگین مسئلہ اکثر دب کر رہ جاتا ہے اور وہ ہے ذہنی صحت۔
سال 2025 میں اگرچہ ذہنی صحت پر گفتگو میں اضافہ ہوا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ بحران پہلے سے زیادہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، ملازمت پیشہ افراد میں ذہنی تھکن، نئی طرزِ زندگی سے پیدا ہونے والی ذہنی الجھنیں اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے جذباتی اثرات، ذہنی سکون ہر طرف سے خطرے میں ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، افسردگی اب دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ دنیا میں ہر8 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ پاکستان میں کیے گئے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 34 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی مرض سے دوچار ہے، جن میں سب سے زیادہ افسردگی اور گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ طالبعلم ہیں جو خاموشی سے دل کے دوروں جیسے خوف کا سامنا کر رہے ہیں، وہ نئی مائیں ہیں جو بچے کی پیدائش کے بعد کے نفسیاتی دباؤ سے تنہا لڑ رہی ہیں، اور وہ کمانے والے افراد ہیں جو مالی بوجھ تلے ٹوٹ رہے ہیں، اور وہ بھی بغیر کسی تشخیص یا مدد کے۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں نوجوان شامل ہیں۔ جن لوگوں کی پیدائش 1995 سے 2010 کے درمیان ہوئی، وہ پہلے سے کہیں زیادہ ذہنی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ میں 42 فیصد سے زائد نوجوانوں کو ذہنی بیماری کی تشخیص ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بھی 2023 سے نوجوانوں اور نو عمر افراد کی جانب سے آن لائن نفسیاتی مشورہ لینے میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی نسل ذہنی صحت کے بارے میں سب سے زیادہ کھل کر بات کرتی ہے۔ لیکن بات چیت کا کھلا پن عملی سہولیات کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اسکولوں میں مشیر ناپید ہیں۔ جامعات کے ذہنی صحت کے پروگرام مالی مشکلات کا شکار ہیں اور سوچل میڈیا جہاں ایک طرف تعلق کا ذریعہ ہے، وہیں عدم تحفظ اور تنہائی کو بھی بڑھاتا ہے۔

اب ذہنی تھکن صرف اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ اب آزاد پیشہ افراد، چھوٹے کاروباری حضرات، حتیٰ کہ طلبہ تک کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ ایک عالمی تحقیق میں بتایا گیا کہ 77 فیصد ملازمین نے موجودہ کام کی جگہ پر ذہنی تھکن کا سامنا کیا۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں بھی ملازمین کو ایسے ہی مسائل درپیش ہیں، خاص طور پر اُن لوگوں کو جو گھر سے یا ملا جلا طریقے سے کام کرتے ہیں، جہاں کام اور آرام کی حدیں مٹ چکی ہیں۔
مسلسل کام کی تعریف نے ہمیں یہ غلط فہمی دے دی ہے کہ تھکن کامیابی کی علامت ہے۔ لیکن انسانی دماغ ہر وقت کی پیداوار کے لیے نہیں بنا۔ مستقل دباؤ کی حالت میں انسانی جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے مادے بڑھ جاتے ہیں، جو گھبراہٹ، کمزور قوتِ مدافعت، اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ذہنی صحت کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا کا ذہنی صحت پر اثر پیچیدہ اور کئی پرتوں پر مشتمل ہے۔ یہ جہاں سہارا دیتے ہیں، وہیں تقابل، حسد اور احساسِ کمتری کو بھی جنم دیتے ہیں۔ آن لائن زندگیوں کی سج دھج حقیقی مشکلات کو چھپا دیتی ہے اور خوبصورتی، کامیابی اور خوشی کے ایسے پیمانے طے کرتی ہے جو حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق، سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کا تعلق بے چینی اور افسردگی میں اضافے سے ہے، خاص طور پر نو عمر لڑکیوں میں۔ ان پلیٹ فارموں پر توجہ اُس چیز کو دی جاتی ہے جو زیادہ لوگ دیکھیں، نہ کہ اُس بات کو جو لوگوں کی دلجوئی کرے اور اس دوڑ میں خود اعتمادی کو زک پہنچتی ہے۔
پاکستان میں آن لائن ہراسانی ایک بڑھتا ہوا لیکن کم رپورٹ ہونے والا مسئلہ ہے۔ ان کے ذہنی زخم بظاہر دکھائی نہیں دیتے، لیکن اندر سے انسان کو توڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ شہری علاقوں میں ذہنی صحت سے متعلق شعور بڑھ رہا ہے، دیہی پاکستان کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں ذہنی بیماری کو اب بھی کمزور ارادے، نالائقی یا کسی روحانی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں2 کروڑ 40 لاکھ کی آبادی کے لیے پانچ سو سے بھی کم ماہرینِ نفسیات موجود ہیں۔ ذہنی صحت کی سہولیات زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود ہیں، جس سے دیہی آبادی محروم رہ جاتی ہے۔ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں، جیسے "تسکین” اور "دی کیئر پراجیکٹ”، یہ خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر اس مسئلے کا حل نظام کی سطح پر تبدیلی ہے۔ ان تمام چیلنجوں کے باوجود اُمید باقی ہے۔ کئی ادارے اب ذہنی صحت کے دن مناتے ہیں۔ کچھ تعلیمی ادارے جذباتی تربیت کو نصاب میں شامل کر رہے ہیں۔ مشہور شخصیات اپنی ذاتی کہانیاں بیان کر کے معاشرتی بندشوں کو توڑ رہی ہیں۔

ڈیجیٹل سہولیات بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سادہ نفسیاتی مدد فراہم کرنے والے چند اطلاقات پاکستان میں بھی سامنے آ رہے ہیں، جو ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جو مروجہ نظام میں نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ لیکن صرف آگاہی کافی نہیں۔ ہمیں قومی سطح پر ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں ہر تعلیمی ادارے میں مشیر، ہر علاقے میں ذہنی صحت کے مراکز، اور ایسا طبی بیمہ ہو جو نفسیاتی علاج کو شامل کرے۔ ذہنی صحت کو کسی فرد کی کمزوری نہیں، بلکہ معاشرتی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔
ذہنی بیماری کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے ، امیر، غریب، جوان، بوڑھا، شہری، دیہاتی۔ وبا نے ہمیں جذباتی فلاح کی اہمیت کا سبق دیا، مگر اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس پر عمل کریں گے؟ ہم اکثر لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ ذہنی مسائل پر بات کریں، مگر جب تک ہم سننے، سہارا دینے اور حقیقی مدد فراہم کرنے کے نظام نہیں بنائیں گے، اس دعوت کا فائدہ کیا؟

ہمیں محض نعروں اور ہیلپ لائنز سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایسے معاشرتی ڈھانچے درکار ہیں جہاں ہمدردی کے ساتھ عمل ہو، شعور کے ساتھ سہولیات ہوں، اور سب سے بڑھ کر یہ ہمت ہو کہ ہم اُن اندھیروں کو تسلیم کریں جو ہم نے برسوں سے چھپا رکھے ہیں۔ کیونکہ ذہنی صحت صرف دماغ کی بات نہیں ۔۔۔ یہ انسانیت کی بات ہے۔







Discussion about this post