امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ایک خصوصی ظہرانہ دیں گے۔ یہ اہم تقریب امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے منعقد کی جائے گی۔ اعلیٰ سفارتی سطح پر ہونے والی اس ملاقات کو دوطرفہ تعلقات کے نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے، جن میں پاک-امریکا تعلقات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایران-اسرائیل کشیدگی سرفہرست ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات کلوزڈ پریس ہو گی، تاہم ظہرانے کے بعد دونوں رہنما میڈیا سے غیر رسمی گفتگو بھی کریں گے۔ اس ظہرانے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع ہینکر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سے علیحدہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ یہ دورہ نا صرف پاک-امریکا سفارتی تعلقات کے استحکام کی علامت ہے بلکہ موجودہ عالمی تناؤ خصوصاً مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو ملک کو عالمی سفارتی منظرنامے پر ایک نمایاں کردار ادا کرنے کی سمت لے جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی پاکستان دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔







Discussion about this post