اسلام آباد کے لیے ایک جدید، بااختیار اور جمہوری نظامِ حکومت کا خواب حقیقت میں بدلنے کو ہے۔ وفاقی حکومت نے دہلی طرز کے ماڈل پر مبنی ایک نئے گورننس سسٹم کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، عوامی نمائندگی کا فروغ اور شہری خدمات کی مؤثر فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس انقلابی تبدیلی کے تحت اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے گا۔ مختلف محکموں ، خاص طور پر صحت، تعلیم، ٹاؤن پلاننگ اور ماحولیات کو ایک مربوط نظام کے تحت ضم کیا جائے گا، تاکہ شہریوں کو یکجا اور منظم سہولیات میسر آ سکیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا، مشیران اور اسلام آباد سے منتخب ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں دو مختلف ماڈلز پر غور کیا گیا، جن میں سے ایک کو حتمی منظوری کے بعد کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اہم تجاویز اور نکات:
-
چیف کمشنر کو چیف سیکریٹری کا درجہ دیا جائے گا، جیسا کہ صوبوں میں ہوتا ہے، تاکہ انتظامی خودمختاری کو تقویت ملے۔
-
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی (ICTA) کے قیام کی تجویز زیرِ غور ہے، جو صوبائی اسمبلیوں کی طرز پر قانون سازی کرے گی۔
-
مجوزہ اسمبلی میں 31 ارکان شامل ہوں گے:
-
15 براہِ راست منتخب
-
4 مخصوص نشستیں خواتین و اقلیتوں کے لیے
-
12 ارکان وفاقی حکومت کی نامزدگی سے، جو مختلف شعبوں کی نمائندگی کریں گے۔
-
کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلام آباد میں تاحال 1980 کے مارشل لا دور کے تحت جاری کردہ صدارتی حکم نامہ نمبر 18 کے مطابق حکمرانی کی جا رہی ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ مزید برآں، موجودہ تین گورننس ماڈلز سی ڈی اے، آئی سی ٹی ایڈمنسٹریشن اور ایم سی آئی کے درمیان اختیارات کے ٹکراؤ اور ہم آہنگی کے فقدان نے شہری سہولیات کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی منتخب باڈی، مناسب اختیارات، دفاتر اور فنڈز نہ ملنے کے باعث اپنے وعدے پورے نہ کر سکی۔ ان نمائندوں کی مدت فروری 2021 میں ختم ہو چکی ہے، اور اس کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن پانچ بار حلقہ بندیاں کر چکا، شیڈول بھی جاری ہو چکے، مگر انتخابی عمل ہنوز تعطل کا شکار ہے۔ رواں سال مئی میں الیکشن کمیشن نے اس تاخیر پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

امید کی نئی کرن:
اب وفاقی حکومت ایک جامع اور ہم آہنگ گورننس ماڈل کے ساتھ سامنے آئی ہے، جو نہ صرف قانون سازی اور اختیارات کی تقسیم کو واضح کرے گا، بلکہ شہریوں کو جواب دہ اور فعال نمائندہ حکومت بھی مہیا کرے گا۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو یہ اسلام آباد کے لیے صرف ایک نظام نہیں، بلکہ ایک نئے دور کی شروعات ہوگی جہاں فیصلہ سازی عوامی ہاتھوں میں ہوگی، اور دارالحکومت صحیح معنوں میں ایک جمہوری آئینہ بنے گا۔







Discussion about this post