پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، پاکستان نے عالمی برادری کو حقائق کی روشنی میں اپنا ذمہ دارانہ اور پُرامن موقف پہنچانے کے لیے موثر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی قیادت میں دوسرا وفد آج ماسکو کے لیے روانہ ہوگا، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پہلا وفد امریکہ میں اہم عالمی اداروں اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، یہ وفود دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں پاکستان کے موقف کی ترجمانی کریں گے اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کو بے نقاب کریں گے۔ امریکہ میں موجود وفد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرے گا، تاکہ خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ سابق وزرائے خارجہ، سینیٹرز اور سابق سفارتکار شامل ہیں، جو پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، مستحکم اور پُرامن ملک کے طور پر اپنی شناخت کو عالمی برادری میں مزید مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جھوٹا بیانیہ کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا اور پاکستان کسی بھارتی فلمی کہانی کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ جنگ و تصادم کی راہ چھوڑ کر بات چیت اور سفارتکاری کو فروغ دیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔ سندھ طاس معاہدے کے مکمل نفاذ اور عالمی تعاون کے ذریعے خطے میں استحکام کی نئی راہیں ہموار کی جائیں۔







Discussion about this post