لاس اینجلس میں پاکستان کے قونصل جنرل عاصم علی خان نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) میں منعقدہ گیارہویں بین الاقوامی یوتھ کانفرنس میں کلیدی خطاب کیا۔ یہ کانفرنس انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف یوتھ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے ابھرتے ہوئے نوجوان رہنما اور تبدیلی کے خواہاں افراد شریک ہوئے تاکہ عالمی چیلنجز اور مشترکہ مواقع پر گفتگو کی جا سکے۔ اپنے خطاب میں عاصم علی خان نے پاکستان کی متحرک نوجوان آبادی کو اجاگر کیا، جو کہ 60 فیصد سے زائد ہے اور 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ نوجوان نسل پاکستان میں جدت، بالخصوص آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں انقلابی ترقی کا محرک بن چکی ہے، جہاں پاکستانی فری لانسرز اور کاروباری افراد عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاکستانی خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا چاہے وہ تعلیم ہو، صحت، قیادت یا ٹیکنالوجی۔

قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ایک جامع، مستحکم پاکستان کی تعمیر میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ عاصم علی خان نے پاکستانی امریکی برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طب، انجینئرنگ، قانون، تعلیم، کاروبار اور اختراع جیسے شعبوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اس برادری کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم "پُل” قرار دیا جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے قونصل جنرل نے حالیہ پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے واضح اور اصولی مؤقف کو دہرایا:
- پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور پہلگام حملے سے کسی قسم کا تعلق واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
- بھارتی میڈیا کے مخصوص حلقوں کی جانب سے شروع کی گئی گمراہ کن مہم نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
- بھارت ماضی کی طرح ایسے افسوسناک واقعات کو اپنے داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، جو مذاکرات اور امن کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
- کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ” جھوٹا بیانیہ” تشکیل دیا جا رہا ہے۔
- بے بنیاد الزامات، بغیر کسی ثبوت یا غیرجانبدار تحقیقات کے، دہشتگردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، مذہبی تعصبات بھڑکانے اور بھارت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔








Discussion about this post