وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان رواں برس دسمبر تک ملک میں فائیو جی موبائل سروس متعارف کرانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ سپیکٹرم سے متعلق عدالتی کارروائیاں اور مختلف اداروں کے درمیان جاری تنازعات اس عمل میں رکاوٹ ہیں۔ شزہ فاطمہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ملک میں سپیکٹرم کی دستیاب گنجائش 274 میگا ہرٹز ہے، جو فائیو جی کے آغاز کے بعد بڑھ کر 550 میگا ہرٹز تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق فائیو جی نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں کئی گنا اضافہ کرے گی بلکہ ریموٹ سرجری، خودکار گاڑیوں، اسمارٹ شہروں اور جدید انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ فائیو جی کی نیلامی میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے درمیان مذاکرات اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے شامل ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا موجودہ ڈھانچہ
فی الحال ملک میں صرف فور جی ٹیکنالوجی زیر استعمال ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس چیئرمین پی ٹی اے نے اعتراف کیا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں میں حکومت نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، اور تمام سرمایہ کاری یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے ذریعے نجی کمپنیوں نے کی ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ناقص انٹرنیٹ کے حوالے سے سوال پر وزارت کے حکام نے بتایا کہ ہر سال وزارتِ آئی ٹی کو ملنے والے نو ارب روپے میں سے سات ارب روپے سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) کو دیے جاتے ہیں۔ فوج اور وزارت آئی ٹی کے ماتحت یہ ادارہ ان دونوں خطوں میں موبائل فون، لینڈ لائن، براڈبینڈ اور فور جی خدمات فراہم کرتا ہے کیونکہ نجی کمپنیوں کی رسائی یہاں محدود ہے۔
اسٹار لنک کی آمد
شزہ فاطمہ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں سٹار لنک سمیت چینی اور روسی کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ سٹار لنک کو پہلے ہی نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ (NOC) جاری کیا جا چکا ہے۔
اسٹار لنک، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا حصہ ہے جو 100 سے زائد ممالک میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ روایتی انٹرنیٹ ڈھانچے پر انحصار نہیں کرتی بلکہ زمین کے مدار میں موجود ہزاروں سیٹلائٹس کے ذریعے براہِ راست انٹرنیٹ مہیا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین پہاڑوں، صحراؤں، سمندروں، غاروں یا فضائی سفر کے دوران بھی انٹرنیٹ سے جڑے رہ سکتے ہیں۔








Discussion about this post