ملک کی سلامتی، امن و امان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت میں نئی روح پھونکنے کے لیے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک غیر معمولی آرڈیننس جاری کر دیا، جس کے تحت فرنٹیئر کانسٹیبلری کو باقاعدہ طور پر وفاقی کانسٹیبلری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے داخلی سلامتی کے نظام میں اصلاحات کا آئینہ دار ہے بلکہ بدلتے ہوئے قومی و بین الاقوامی تقاضوں کا بھرپور جواب بھی ہے۔ آرڈیننس کے فوراً بعد وزارتِ قانون و انصاف نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس میں واضح کیا گیا کہ وفاقی کانسٹیبلری کو اب ایک جامع، ہمہ جہت اور فوری ردعمل دینے والی فورس کے طور پر ملک بھر میں استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ تاریخی آرڈیننس جس کا عنوان ہے "فرنٹیئر کانسٹیبلری (تنظیمِ نو) آرڈیننس، 2025” ملک میں جاری پارلیمانی سیشن نہ ہونے کے باوجود، صدر کی مکمل تسلی اور قومی مفاد میں فوری اقدام کی ضرورت کے تحت نافذالعمل ہو گیا ہے۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری، جسے ایک صدی قبل سرحدی علاقوں میں امن و سکون کے قیام کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، اب اپنی نوعیت، دائرہ کار اور ذمہ داریوں میں انقلاب انگیز تبدیلی کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے قومی منظرنامے جن میں قدرتی آفات، ہنگامی حالات، دہشت گردی، سول بے چینی اور غیر متوقع خطرات شامل ہیں کے پیش نظر ایک ایسی لچکدار فورس کی اشد ضرورت محسوس کی گئی جو فوری اور مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہو۔ وفاقی کانسٹیبلری اب نہ صرف اسلام آباد پولیس، صوبائی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرے گی بلکہ اسے بطور "فیڈرل ریزرو فورس” خصوصی اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ فورس کی سربراہی انسپکٹر جنرل کے سپرد ہو گی، جن کی تقرری براہ راست وفاقی حکومت کرے گی، جبکہ اس کی کمان ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی، اے آئی جی، اور پی ایس پی افسران سنبھالیں گے۔ یہ فورس دو بڑے ڈویژنز میں تقسیم ہو گی ۔ سیکیورٹی ڈویژن اور فیڈرل ریزرو ڈویژن۔ قانونی اختیارات کے دائرے میں بھی توسیع کی گئی ہے ، وفاقی کانسٹیبلری کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997، پولیس آرڈر 2002، اور فوجداری ضابطہ اخلاق 1898 کے تحت مکمل قانونی جواز حاصل ہو گا، تاکہ ہر طرح کے چیلنجز سے سختی اور حکمت سے نمٹا جا سکے۔ وفاقی کانسٹیبلری کا تنظیمی ڈھانچہ ونگز، کمپنیاں اور پلاٹونز پر مشتمل ہو گا، جن کی قیادت تجربہ کار افسران کریں گے، ایس پی، اے ایس پی، ڈی ایس پی، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی موجودہ نفری، اثاثے اور تمام تر ذمہ داریاں اب نئے تشخص کے ساتھ وفاقی کانسٹیبلری کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ ہر اہلکار اور ملازم اپنے سابقہ عہدے، سروس رولز اور مراعات کے تحت نئی فورس کا حصہ تصور ہو گا۔ یہ آرڈیننس نہ صرف داخلی سیکیورٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب قدم ہے، بلکہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ربط، اعتماد اور کارکردگی میں بے مثال اضافہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو گا۔







Discussion about this post