شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع اجلاس میں اس وقت ایک غیر معمولی سفارتی لمحہ سامنے آیا جب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی مدلل تقریر کے بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دوبارہ بولنے کی اجازت طلب کی، لیکن چین کے وزیر دفاع نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے پاکستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق ٹھوس شواہد تمام رکن ممالک کے سامنے پیش کیے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے اور بلوچستان میں بھارتی نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے بھارت کے منفی کردار کو بے نقاب کیا۔
بھارت کا جواب دینے کی کوشش ناکام
خواجہ آصف کے حقائق پر مبنی خطاب کے فوراً بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چینی وزیر دفاع سے دوبارہ خطاب کی اجازت مانگی تاکہ وہ پاکستان کے الزامات کا جواب دے سکیں۔ تاہم، چینی وزیر دفاع نے قواعد و ضوابط کے مطابق اس اجازت کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو ایجنڈے سے ہٹ کر قرار دیا۔
کشمیر اور بلوچستان کا ذکر , بھارت کی تنہائی نمایاں
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ ایس سی او کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر اور بلوچستان جیسے حساس معاملات کا تذکرہ بھی شامل تھا، جس پر نو میں سے آٹھ رکن ممالک نے اتفاق کیا، تاہم بھارت نے واحد ملک کے طور پر اس پر دستخط سے انکار کر کے خود کو الگ تھلگ کر لیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ "اس اجلاس میں بھارت کی سفارتی تنہائی کھل کر سامنے آ گئی ہے، اور پاکستان کے مؤقف کو چین، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے خاموش مگر مؤثر تائید حاصل ہوئی۔”







Discussion about this post