روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گہرے اور معنی خیز ٹیلیفونک رابطے میں ایران سے جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مشورہ دے کر دنیا کو ایک نئی امید کی کرن دکھائی ہے۔ یہ کال اس سال کی پہلی براہ راست بات چیت تھی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور بین الاقوامی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ کریملن کے خارجہ پالیسی کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق، پیوٹن نے ٹرمپ کو ایران تنازعے کے جلد سیاسی اور سفارتی حل کے لیے کئی عملی تجاویز پیش کیں، جو خلیجی ممالک کے رہنماؤں، ایران کے صدر اور دیگر عالمی شخصیات سے ہونے والی بات چیت پر مبنی تھیں، یہ تجاویز گویا امن کی طرف ایک پل کی مانند ہیں۔ پیوٹن نے زور دے کر کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف یہ جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے، جو معیشتوں کو شدید دھچکا دے رہا ہے، اور اسے روکنا وقت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی پریس کانفرنس میں فخر سے بتایا کہ پیوٹن ایران کے معاملے پر مددگار بننا چاہتے ہیں، مگر ٹرمپ نے جواباً کہا کہ یوکرین میں جنگ ختم کر کے پیوٹن زیادہ بہتر مدد کر سکتے ہیں۔ ایک ایسی بات چیت جو دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان کھلے پن اور حقیقت پسندی کی عکاسی کرتی ہے۔ کال کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین تنازعے کی صورتحال، وینزویلا کی سیاسی و معاشی کشمکش اور عالمی تیل کی منڈی پر اس کے اثرات پر بھی گہری گفتگو کی۔ یہ موضوعات جو آج کی دنیا کی سب سے بڑی چیلنجز ہیں۔ اس سے قبل پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک پرجوش مبارک باد کا پیغام بھیجا تھا، جس میں انہوں نے یقین دلایا کہ نئی قیادت اپنے والد کی میراث کو عزت کے ساتھ آگے بڑھائے گی اور ایرانی عوام کو شدید آزمائشوں کے سامنے متحد رکھے گی۔ یہ پیغام روس اور ایران کے مضبوط اتحاد کی ایک اور مثال ہے۔ یہ ٹیلیفونک رابطہ نہ صرف ایران جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہے بلکہ عالمی امن، توانائی کی سلامتی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مکالمے کی بحالی کا ایک روشن باب بھی ہے۔






Discussion about this post