لاہور میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی، پھر شاید بیٹنگ کو ہی آرام دینے کا فیصلہ کرلیا۔ پوری ٹیم 25.3 اوورز میں 110 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ سری لنکا نے یہ ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا اور سہ ملکی سیریز کے فائنل میں جگہ بنا لی۔
ٹاس سری لنکا نے جیتا اور پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ دعوت قبول تو کرلی گئی، مگر پاکستانی بلے بازوں نے مہمان نوازی کے بجائے وکٹیں تحفے میں دینا شروع کردیں۔
فخر زمان پانچ، معاذ صداقت آٹھ، سعد بیگ پانچ اور سلمان علی آغا نو رنز بنا کر رخصت ہوئے۔ بابر اعظم نے 29 رنز کے ساتھ کچھ دیر مزاحمت کی، مگر وہ بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے۔
شاداب خان دو رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ وہ ریویو لینا چاہتے تھے، لیکن پاکستان کے ریویو پہلے ہی ختم ہوچکے تھے۔ یوں فیصلہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
حسن نواز نے 17، عرفات منہاس نے 10 اور کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 15 رنز بنائے۔ حارث رؤف کے حصے میں صرف ایک رن آیا۔ پوری ٹیم 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے مقابلوں میں یہ پاکستان کے تیسرے کم ترین اسکور میں شمار ہوتا ہے۔
سری لنکا کے دلشان مدھوشنکا نے 34 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ سہان آراچیگے نے دو، جبکہ اسیتھا فرنینڈو، ایشان ملنگا اور دونیتھ ویلالاگے نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
اب سری لنکا کے سامنے 111 رنز کا ہدف تھا۔ کامندو مینڈس نے 62 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کو 18.1 اوورز میں ہی منزل پر پہنچا دیا۔ دو وکٹیں گریں، باقی کام نسبتاً آسانی سے ہوگیا۔
یوں پاکستان کو، جو اس میچ سے پہلے ناقابل شکست تھا، پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ پاکستانی ٹیم پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکی تھی، اس لیے اس ہار سے اس کی فائنل میں رسائی متاثر نہیں ہوئی۔
کرکٹ کا سبق ایک بار پھر وہی نکلا: نام بڑے ہوں یا ٹیم ناقابل شکست، اسکور بورڈ پر رنز نہ ہوں تو مخالف کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔





Discussion about this post