نئی دہلی کا یہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ، آج ایک شدید دھچکے کا شکار ہو گیا۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور بلینئیر فلاحی شخصیت بل گیٹس نے اپنا کلیدی خطاب منسوخ کر دیا، ایک ایسا فیصلہ جو تقریب کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا اور پورے ایونٹ کی رونق کو ماند کر گیا۔ گیٹس فاؤنڈیشن نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ "احتیاط سے غور و فکر کے بعد، اور سمٹ کی بنیادی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے” بل گیٹس اپنا خطاب ادا نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ فاؤنڈیشن کے صدر برائے انڈیا اور افریقہ، انکور ورا، نمائندگی کریں گے۔ تاہم، منسوخی کی کوئی واضح اور تفصیلی وجہ سامنے نہیں آئی، جس نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی۔ یہ دھچکا اس وقت لگا جب سمٹ پہلے ہی شدید تنقید کی زد میں تھا۔ انتظامی خامیوں، ٹریفک کی بندشوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں، اور ایک روبوٹ سے متعلق شرمناک تکنیکی تنازع کی وجہ سے۔ مندوبین کی شکایات نے فضا کو پہلے ہی کشیدہ کر رکھا تھا، اور اب بل گیٹس کی غیر موجودگی نے اسے مزید گہرا کر دیا۔

اس سے قبل اینویڈیا کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ نے بھی اعلیٰ سطح کی شرکت سے انکار کر دیا تھا، جو ایک اور بڑا دھچکا تھا۔ یہ دونوں شخصیات اے آئی کی دنیا کے سب سے بڑے ستون ہیں، اور ان کی عدم موجودگی نے سمٹ کو ایک عالمی فورم کی بجائے ایک محدود تقریب میں تبدیل کر دیا ہے۔ نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمنیول میکرون نے سمٹ کا افتتاح کیا، اور گوگل، اوپن اے آئی سمیت کئی بڑی ٹیک کمپنیوں کے نمائندے موجود ہیں، مگر بل گیٹس اور جینسن ہوانگ جیسے ناموں کی غیر موجودگی نے تقریب کی عظمت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ صرف ایک خطاب کی منسوخی نہیں، یہ ایک خواب کی ادھوری تصویر ہے، جہاں بھارت نے اے آئی کی عالمی قیادت کا دعویٰ کیا تھا، مگر آج یہ تقریب اپنے ہی چیلنجز میں الجھ کر رہ گئی۔ دنیا اب دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ سمٹ اپنے مقاصد پر پورا اتر پائے گی، یا یہ صرف ایک اور منظم افراتفری کی مثال بن کر رہ جائے گی۔







Discussion about this post