میٹا نے یورپی صارفین کے لیے واٹس ایپ میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے. ایسی تبدیلی جس کے بعد میسجنگ کی دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اب پہلی بار واٹس ایپ صارفین اپنی ایپ کے اندر رہتے ہوئے دیگر میسجنگ ایپس کے صارفین سے بھی براہِ راست گفتگو کر سکیں گے۔ یہ قدم یورپی اتحاد کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی خدمات دوسرے پلیٹ فارمز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔میٹا کا کہنا ہے کہ یہ سہولت آنے والے مہینوں میں مرحلہ وار متعارف کرائی جائے گی، اور ابتدا میں صرف محدود میسجنگ ایپس واٹس ایپ سے جڑ سکیں گی، جس کے بعد اس دائرے کو وسیع کیا جائے گا۔
میٹا نے اس نئی خصوصیت کے تین بنیادی نکات واضح کیے ہیں:
1۔ صارفین کی سلامتی اور رازداری اولین ترجیح رہے گی، اور بیرونی ایپس سے رابطے کے باوجود اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن برقرار رکھی جائے گی۔
2۔ صارفین کو واضح طور پر بتایا جائے گا کہ واٹس ایپ چیٹ اور بیرونی چیٹ میں کیا فرق ہے، تاکہ استعمال میں کوئی ابہام نہ رہے۔
3۔ یہ سہولت صرف یورپی یونین کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔
یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس, دونوں پلیٹ فارمز پر فراہم کیا جائے گا۔ جیسے ہی یہ فعال ہوگا، یورپی صارفین کو واٹس ایپ کی سیٹنگز میں ایک نوٹس ملے گا جس کے ذریعے وہ کراس-ایپ میسجنگ فیچر کو آن یا آف کر سکیں گے۔ اس فیچر کے بعد واٹس ایپ صارفین دوسری میسجنگ ایپس استعمال کرنے والے افراد کو ٹیکسٹ میسجز، وائس نوٹس، تصاویر، ویڈیوز اور مختلف فائلیں بھیج سکیں گے۔ البتہ واٹس ایپ اسٹیٹس دوسری ایپس پر شیئر نہیں کیا جا سکے گا۔ کمپنی کے مطابق ابتدا میں صارفین واٹس ایپ سے صرف ایک بیرونی ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے، تاہم جلد ہی مزید تھرڈ پارٹی ایپس کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ یہ واٹس ایپ کی تاریخ کی سب سے بڑی اور بنیادی اپ ڈیٹ ہے، جس کے بعد صارفین کو ایک زیادہ کھلا، باہمی رابطے کے قابل پلیٹ فارم ملے گا جس میں سیکیورٹی بھی پوری طرح برقرار رہے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سہولت فی الحال صرف یورپی صارفین کے لیے اور صرف آئی او ایس ڈیوائسز پر دستیاب ہوگی، جبکہ دیگر خطوں اور پلیٹ فارمز پر اسے بعد میں متعارف کرایا جائے گا۔







Discussion about this post