تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

تہران کی میز پر چار ملک، کئی مفادات اور ایک بڑا سوال

by ویب ڈیسک
اکتوبر 26, 2026
iran meeting
Share on FacebookShare on Twitter

تہران میں چار ملکوں کے اعلیٰ حکام آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی۔ میز پر بظاہر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ نکالنے کا ایجنڈا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل کہانی اکثر وہ نہیں ہوتی جو مشترکہ اجلاس کے اعلامیے میں لکھی جاتی ہے۔ اصل کہانی ان خدشات، مفادات اور سرخ لکیروں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں سفارت کار کیمرے کے سامنے زبان نہیں دیتے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اجلاس کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ایک تصویر میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری تصویر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی موجود ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایرانی حکام کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندوں سے ملاقات کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویریں محض تصویریں نہیں ہوتیں۔ سفارت کاری میں بعض اوقات ایک ہی فریم میں بیٹھے لوگوں کے عہدے، ان کی موجودگی اور ان کے درمیان رابطے کی نوعیت بھی ایک پیغام ہوتے ہیں۔ تاہم یہ تصاویر بذاتِ خود مذاکرات کے خفیہ ایجنڈے یا کسی طے شدہ سمجھوتے کا ثبوت نہیں۔

سوال یہ ہے کہ تہران میں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت کس کو ہے؟

ایران کو، جسے اپنے علاقائی تعلقات میں گنجائش پیدا کرنی ہے؟ سعودی عرب کو، جو اپنے دفاعی مفادات اور علاقائی استحکام کے درمیان توازن چاہتا ہے؟ ترکی کو، جو خطے کی سیاست میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے؟ یا پاکستان کو، جس کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور اپنے اردگرد کے حالات میں استحکام، تینوں اہم ہیں؟

ممکن ہے ان چاروں کے مقاصد ایک جیسے نہ ہوں، لیکن ان کے مفادات کا ایک مقام پر آ ملنا ہی اس اجلاس کی اہمیت ہے۔

سعودی عرب پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں اضافے کو روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ بیان سفارتی زبان میں امید بھی ہے اور اعتراف بھی کہ خطے میں ایسے معاملات موجود ہیں جنہیں صرف بیانات، دھمکیوں یا عسکری قوت کے مظاہروں سے حل کرنا آسان نہیں۔

یہاں پاکستان کا کردار خاص توجہ کا مستحق ہے۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، سعودی عرب ایک اہم دفاعی شراکت دار، اور ترکی ایک ایسا ملک جس کے ساتھ اسلام آباد سیاسی اور عسکری تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے ان تعلقات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ان کے درمیان رابطے کی گنجائش پیدا کرنا ایک اہم سفارتی ضرورت ہے۔

رواں سال سات اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان جس دفاعی و سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے گئے، اسے ’معاہدۂ مکہ‘ کہا گیا ہے۔ اس پس منظر میں تہران میں ہونے والی ملاقات ایک دلچسپ سوال پیدا کرتی ہے: کیا یہ تینوں ممالک اپنے دفاعی تعاون کو صرف اپنے دائرے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، یا اس کے ذریعے خطے میں وسیع تر سیاسی رابطوں کے لیے بھی کوئی جگہ پیدا ہو سکتی ہے؟

اس سوال کا جواب ابھی ان تصاویر یا دستیاب بیانات سے نہیں ملتا۔ دفاعی معاہدہ اپنی جگہ، لیکن ایران کے ساتھ مذاکرات ایک الگ سفارتی حقیقت ہیں۔ دونوں کو ایک ہی منصوبے کے دو حصے قرار دینا، کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر، قبل از وقت ہوگا۔

خطے کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر ملک امن چاہنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ہر ملک کی نظر میں امن کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔ کسی کے لیے امن سرحدوں کا تحفظ ہے، کسی کے لیے مخالف کی عسکری قوت کو محدود کرنا، کسی کے لیے تجارتی راستوں کا کھلا رہنا اور کسی کے لیے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا۔

چنانچہ تہران کے اجلاس کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ کتنے اہم رہنما ایک میز پر بیٹھے یا کتنی تصاویر جاری ہوئیں۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا ان مذاکرات سے کشیدگی کم کرنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ نکلتا ہے؟ کیا متعلقہ فریق اپنے اختلافات کو قابو میں رکھنے کے لیے کسی قابلِ تصدیق مفاہمت تک پہنچتے ہیں؟ اور کیا اس مفاہمت کو صرف اجلاس کے کمرے سے باہر نکلنے تک محدود رکھنے کے بجائے عملی پالیسی میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے؟

سفارت کاری کا کمال یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو جائیں۔ کمال یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود تصادم کو روکا جا سکے۔

فی الحال تہران میں چار ملکوں کے نمائندوں کی موجودگی ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ مگر ملاقات کا آغاز اور معاہدے تک پہنچنا دو الگ مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ تصویروں میں نظر آ جاتا ہے؛ دوسرے کی تصدیق کے لیے نتائج کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران کی میز سے کوئی ایسا راستہ نکلتا ہے جو خطے کو ایک اور بحران سے بچا سکے، یا یہ ملاقات بھی ان سفارتی کوششوں میں شامل ہو جاتی ہے جن کی تصویریں محفوظ رہتی ہیں، مگر جن کے وعدے وقت کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں۔

Previous Post

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31: کیا اسٹاک ایکسچینج میں آٹو کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بدلنے والی ہیں؟

Discussion about this post

تار نامہ

iran meeting

تہران کی میز پر چار ملک، کئی مفادات اور ایک بڑا سوال

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31: کیا اسٹاک ایکسچینج میں آٹو کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بدلنے والی ہیں؟

mir raza murder

میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل تھی؛ جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش پر سوال اٹھا دیے

tiger shroff

ٹائیگر شروف پر فائرنگ: کوٹا سے تین ملزمان گرفتار، بشنوئی گینگ کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری

parliment

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist